bilal1983
10-24-2009, 08:47 PM
Can any one plz tell me that Hazrat Khizr( alayhis 'salam
wheter he was a prophet and when he was born can any one give me any refrence from quran sharif where it is mention that he was a prophet.
and who are the 2 prophets who are alive from the time of adam( alayhis 'salam and meet every year at the time of haj at zam zam.
mfarooqmasood
11-07-2009, 09:15 AM
Well Dear its not Said Whether He was a Prophet but In Quran it is mentioned as The Righteous man. Here are the references from Holy Quran.
60. وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ لاَ أَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًاO
60. اور (وہ واقعہ بھی یاد کیجئے) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنے (جواں سال ساتھی اور) خادم (یوشع بن نون علیہ السلام) سے کہا: میں (پیچھے) نہیں ہٹ سکتا یہاں تک کہ میں دو دریاؤں کے سنگم کی جگہ تک پہنچ جاؤں یا مدتوں چلتا رہوںo
60. (And also call to mind the incident) when Musa (Moses) said to his (young companion and) servant (Yusha‘ ibn Nun [Joshua] the son of Nun): ‘I will not step (back) until I arrive at the junction of the two seas or I travel on infinitely.’
61. فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًاO
61. سو جب وہ دونوں دو دریاؤں کے درمیان سنگم پر پہنچے تو وہ دونوں اپنی مچھلی (وہیں) بھول گئے پس وہ (تلی ہوئی مچھلی زندہ ہوکر) دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بناتے ہوئے نکل گئیo
61. So when both of them reached the junction of the two seas, they forgot their fish (there). So, that (fried fish came back to life and) made its way into the sea like a tunnel and slipped off.
62. فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًاO
62. پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے (تو) موسٰی (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا: ہمارا کھانا ہمارے پاس لاؤ بیشک ہم نے اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا کیا ہےo
62. Then, when both of them had gone ahead, Musa (Moses) asked his servant: ‘Bring us our meal. Surely we have faced great hardship during our this journey.’
63. قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنسَانِيهُ إِلاَّ الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًاO
63. (خادم نے) کہا: کیا آپ نے دیکھا جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا تو میں (وہاں) مچھلی بھول گیا تھا، اور مجھے یہ کسی نے نہیں بھلایا سوائے شیطان کے کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں، اور اس (مچھلی) نے تو (زندہ ہوکر) دریا میں عجیب طریقہ سے اپنا راستہ بنا لیا تھا (اور وہ غائب ہو گئی تھی)o
63. (The servant) said: ‘Did you see when we reposed beside the rock? I forgot the fish (there) and none but Satan made me forget to mention it to you. And that fish (after coming back to life) made its way into the sea in a strange way (and it disappeared).’
64. قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًاO
64. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: یہی وہ (مقام) ہے ہم جسے تلاش کر رہے تھے، پس دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر (وہی راستہ) تلاش کرتے ہوئے (اسی مقام پر) واپس پلٹ آئےo
64. Musa (Moses) said: ‘That is the place we were looking for.’ So both returned to (the same place), tracing the (same track) following their footsteps.
65. فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًاO
65. تو دونوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے (خضر علیہ السلام) کو پا لیا جسے ہم نے اپنی بارگاہ سے (خصوصی) رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے علم لدنی (یعنی اسرار و معارف کا الہامی علم) سکھایا تھاo
65. Then both found (there) one of Our (elite) servants (Khidr) upon whom We had bestowed from Our Presence (special) mercy and had taught him infused knowledge (i.e. the inspired knowledge of secrets and Gnostics).
66. قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًاO
66. اس سے موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ اس (شرط) پر رہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے (بھی) اس علم میں سے کچھ سکھائیں گے جو آپ کو بغرضِ ارشاد سکھایا گیا ہےo
66. Musa (Moses) said to him: ‘Can I stay with you under this (condition) that you will teach me (as well) some of that knowledge which has been conferred on you for guidance.’
67. قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًاO
67. اس (یعنی خضر علیہ السلام) نے کہا: بیشک آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کر سکیں گےo
67. He (i.e. Khidr) said: ‘No doubt, you will not be able to have patience being in my company.
68. وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًاO
68. اور آپ اس (بات) پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جسے آپ (پورے طور پر) اپنے احاطہء علم میں نہیں لائے ہوں گےo
68. And how can you observe patience in (the matter of) which you will not have acquired (thorough) knowledge?’
69. قَالَ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلاَ أَعْصِي لَكَ أَمْرًاO
69. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: آپ اِن شاء اﷲ مجھے ضرور صابر پائیں گے اور میں آپ کی کسی بات کی خلاف ورزی نہیں کروں گاo
69. Musa (Moses) said: ‘You will certainly find me patient, if Allah so pleases, and I will not violate any of your instructions.
70. قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلاَ تَسْأَلْنِي عَن شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًاO
70. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: پس اگر آپ میرے ساتھ رہیں تو مجھ سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کریں یہاں تک کہ میں خود آپ سے اس کا ذکر کردوںo
70. (Khidr) said: ‘So if you are in my company then do not question me about any thing until I myself mention that to you.’
71. فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًاO
71. پس دونوں چل دیئے یہاں تک کہ جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے (تو خضر علیہ السلام نے) اس (کشتی) میں شگاف کر دیا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے اسے اس لئے (شگاف کر کے) پھاڑ ڈالا ہے کہ آپ کشتی والوں کو غرق کردیں، بیشک آپ نے بڑی عجیب بات کیo
71. So both of them set out till, when they embarked on a boat, (Khidr) bored a hole in it. Musa (Moses) said: ‘Have you bored (a hole in) it to drown the people aboard? Surely you have done something strange.’
72. قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًاO
72. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکیں گےo
72. (Khidr) said: ‘Did I not tell you that you would not be able to restrain yourself in my company?’
73. قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًاO
73. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: آپ میری بھول پر میری گرفت نہ کریں اور میرے (اس) معاملہ میں مجھے زیادہ مشکل میں نہ ڈالیںo
73. Musa (Moses) said: ‘Call me not to account for my omission and put me not in any more difficulty in (this) affair of mine.’
74. فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلاَمًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًاO
74. پھر وہ دونوں چل دیئے یہاں تک کہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو (خضر علیہ السلام نے) اسے قتل کر ڈالا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے بے گناہ جان کو بغیر کسی جان (کے بدلہ) کے قتل کر دیا ہے، بیشک آپ نے بڑا ہی سخت کام کیا ہےo
74. Then both of them proceeded till they met a boy. (Khidr) killed him. Musa (Moses) said: ‘Have you killed an innocent soul without any (retribution due) for anyone killed? Indeed you have done a horrible thing.’
75. قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًاO
75. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کر سکیں گےo
75. (Khidr) said: ‘Did I not tell you that you would never be able to keep patience in my company?’
76. قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلاَ تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّي عُذْرًاO
76. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کی نسبت سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا، بیشک میری طرف سے آپ حدِ عذر کو پہنچ گئے ہیںo
76. Musa (Moses) said: ‘If I ask you about anything after this, then do not keep me with you. Indeed, in my opinion, you have reached the limit to excuse.’
77. فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًاO
77. پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب دونوں ایک بستی والوں کے پاس آپہنچے، دونوں نے وہاں کے باشندوں سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے ان دونوں کی میزبانی کرنے سے انکار کر دیا، پھر دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی تو (خضر علیہ السلام نے) اسے سیدھا کر دیا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس (تعمیر) پر مزدوری لے لیتےo
77. Then both set off, until they reached the people of a town; both asked its residents for food but they refused to entertain them. Then they found there a wall which was about to fall. (Khidr) erected it. Musa (Moses) said: ‘If you desired, you could take wages for this (construction work).’
78. قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًاO
78. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی (کا وقت) ہے، اب میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کئے دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکےo
78. (Khidr) said: ‘This is the parting (time) between me and you. Now I impart to you the truth of the matters about which you have not been able to keep patience.
79. أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًاO
79. وہ جو کشتی تھی سو وہ چند غریب لوگوں کی تھی وہ دریا میں محنت مزدوری کیا کرتے تھے پس میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار کر دوں اور (اس کی وجہ یہ تھی کہ) ان کے آگے ایک (جابر) بادشاہ (کھڑا) تھا جو ہر (بے عیب) کشتی کو زبردستی (مالکوں سے بلامعاوضہ) چھین رہا تھاo
79. As for the boat, that belonged to some poor people who used to toil for wages on the river. So I decided to make it defective (because) a (cruel) king was (standing) ahead of them, snatching every (undamaged) boat by force (from the owners without any compensation).
80. وَأَمَّا الْغُلاَمُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَن يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًاO
80. اور وہ جو لڑکا تھا تو اس کے ماں باپ صاحبِ ایمان تھے پس ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ (اگر زندہ رہا تو کافر بنے گا اور) ان دونوں کو (بڑا ہو کر) سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گاo
80. And as for the boy, his parents were blessed with faith. So we feared that (if he lived on he would become a disbeliever, and on attaining to maturity) he would afflict both of them with disobedience and disbelief.
81. فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًاO
81. پس ہم نے ارادہ کیا کہ ان کا رب انہیں (ایسا) بدل عطا فرمائے جو پاکیزگی میں (بھی) اس (لڑکے) سے بہتر ہو اور شفقت و رحم دلی میں (بھی والدین سے) قریب تر ہوo
81. So we intended that their Lord might bless them with (such) a substitute as would be better than this (boy) in purity and nearer (to his parents as well) in clemency and kindness.
82. وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلاَمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًاO
82. اور وہ جو دیوار تھی تو وہ شہر میں (رہنے والے) دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لئے ایک خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ صالح (شخص) تھا، سو آپ کے رب نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے وہ اپنا خزانہ (خود ہی) نکالیں، اور میں نے (جو کچھ بھی کیا) وہ اَز خود نہیں کیا، یہ ان (واقعات) کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کر سکےo
82. And as for the wall, that belonged to two orphan **** (residing) in the town. And a treasure was (buried) beneath it for both of them. And their father was (a) pious (man). So your Lord willed that both of them should reach their age of maturity and dig out their treasure (themselves) by Mercy from your Lord. And I did not do (whatever I did) of my own accord. This is the truth (of the matters) about which you could not hold yourself.’
(al-Kahf, 18: Ayaat 60 to 82)
Hope it will be quit Satisfactory... More References from Ahadeeth Will be added Soon Insha'Allah.
Keep Prayeing for Me.
Powered by vBulletin™ Version 4.0.3 Copyright © 2010 vBulletin Solutions, Inc. All rights reserved.